
ڈسٹرکٹ ٹهٹھ رپوٹر سبحان علی )ٹھٹھہ: گاؤں عارب سولنگی میں پولیس آپریشن، متعدد مکانات مسمار، کے لوٹ مار اور زیادتیوں کے الزامات
دیہاتیوں
ٹھٹھہ: گاؤں عارب سولنگی میں گزشتہ رات کے آخری پہر اے ایس پی ٹھٹھہ عبداللہ افضل کی سربراہی میں ضلع کے مختلف تھانوں سے آئے دو سو سے زائد پولیس اہلکاروں نے بھاری مشینری کے ساتھ آپریشن کیا، جس کے دوران دیہاتیوں کے مطابق متعدد مکانات مسمار کر دیے گئے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل عدالتی احکامات پر پہنچنے والی پولیس اور ریونیو انتظامیہ کو دیہاتیوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد ایک سو سے زائد افراد، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، کے خلاف سرکاری ڈیوٹی میں مداخلت اور پولیس پر حملے سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
متاثرین کا الزام ہے کہ آپریشن کے دوران پولیس نے ہوائی فائرنگ کر کے علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا اور متنازع زمین کے علاوہ تقریباً 80 سال پرانے گاؤں کے متعدد مکانات بھی گرا دیے۔ ان کے مطابق سندھ حکومت کی پیپلز ہاؤسنگ اسکیم کے تحت تعمیر شدہ گھر بھی مسمار کیے گئے، جبکہ سینئر صحافی اور سماجی شخصیت حاجن سولنگی کی قائم کردہ لائبریری بھی منہدم کر دی گئی، جس سے قیمتی کتابوں کو نقصان پہنچا۔
دیہاتیوں نے مزید الزام عائد کیا کہ کارروائی کے دوران گھروں سے گھریلو سامان، طلائی زیورات، نقد رقم، پنکھے، مویشی اور مرغیاں بھی لے جائی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کارروائی کے خوف سے کئی مرد گاؤں چھوڑ گئے جبکہ خواتین اور بچے کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئے۔
متاثرہ خواتین اور دیگر دیہاتیوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ پولیس کی جانب سے ان الزامات پر فوریطور پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔












Leave a Reply