سرائیکی صوبہ: ملتان میں آوازیں بلند، گیلانی خاندان خاموش کیوں؟
ملتان: (خصوصی رپورٹ ایم علی کربلائی سے)سرائیکی صوبے کے قیام کا مطالبہ ایک بار پھر ملتان کی سیاسی، سماجی اور ادبی محفلوں میں زور پکڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ شہر میں آئے روز سرائیکی صوبے کے حق میں تقریبات، سیمینارز اور اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں، جہاں مختلف سیاسی، سماجی اور سرائیکی شخصیات اس مطالبے کے حق میں اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔
لیکن دوسری جانب ملتان کی سیاست میں ایک اہم اور تاریخی نام، گیلانی خاندان کی خاموشی عوامی حلقوں میں سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
یہ وہی ملتان ہے جہاں ماضی میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سرائیکی صوبے کے قیام کی بات کرتے رہے اور جنوبی پنجاب خصوصاً ملتان کے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے دکھائی دیتے تھے۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ سرائیکی صوبے کے حوالے سے شہر میں روزانہ مختلف پروگرام منعقد ہو رہے ہیں، بڑے بڑے نام اس مسئلے پر گفتگو کر رہے ہیں، لیکن گیلانی خاندان کی جانب سے اس اہم معاملے پر نمایاں آواز سنائی نہیں دے رہی۔
حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ گیلانی خاندان کی سیاسی موجودگی آج بھی قومی سطح پر موجود ہے۔ خود یوسف رضا گیلانی سینیٹ کے چیئرمین کے منصب پر فائز ہیں جبکہ ان کے صاحبزادے بھی سیاست میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے میں ملتان کے شہریوں کا سوال ہے کہ آخر سرائیکی صوبے کے معاملے پر گیلانی خاندان خاموش کیوں ہے؟
کیا یہ خاموشی کسی سیاسی مصلحت کا نتیجہ ہے؟ کیا موجودہ سیاسی حالات نے سرائیکی صوبے کے مطالبے کو گیلانی خاندان کی ترجیحات میں پیچھے دھکیل دیا ہے؟ یا پھر اس معاملے پر کوئی نئی سیاسی حکمت عملی زیرِ غور ہے؟
یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کہ گیلانی خاندان کا سیاسی اثر و رسوخ ملتان اور جنوبی پنجاب میں کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ماضی میں سرائیکی شناخت اور صوبے کے مطالبے کے حوالے سے گیلانی خاندان کی آواز کو اہمیت حاصل رہی ہے۔
آج جب ملتان کی گلیوں، ادبی محفلوں، سیاسی تقریبات اور عوامی اجتماعات میں سرائیکی صوبے کا نعرہ دوبارہ سنائی دے رہا ہے تو عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ گیلانی خاندان اس مسئلے پر خاموش تماشائی ہے یا کسی مناسب وقت کا انتظار کر رہا ہے؟
سرائیکی صوبہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے عوام کے ایک دیرینہ مطالبے کے طور پر سامنے آتا رہا ہے۔ اس لیے عوامی حلقے توقع رکھتے ہیں کہ ملتان کی بڑی سیاسی شخصیات اس معاملے پر اپنا واضح مؤقف سامنے لائیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہ سرائیکی صوبے کے مطالبے کے ساتھ کہاں کھڑی ہیں۔
اب نظریں گیلانی خاندان پر ہیں کہ وہ اس خاموشی کو توڑتا ہے یا ملتان میں سرائیکی صوبے کے لیے اٹھنے والی آوازوں کے درمیان یہ سوال بدستور اپنی جگہ قائم رہتا ہے:
“جس ملتان میں کبھی گیلانی خاندان سرائیکی صوبے کی آواز بنتا تھا، آج اسی ملتان میں وہ خاموش کیوں ہے











Leave a Reply