
ملتان (کرائم رپورٹر ایم علی) بدھلہ سنت میں شمیم مائی کی خودکشی کے معاملے نے کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، خودکشی سے چند روز قبل شمیم مائی نے تھانہ بدھلہ سنت میں ایک درخواست دی تھی، جس میں انہوں نے اشفاق سمیت چند افراد پر مبینہ زیادتی، تشدد اور موبائل چھیننے کے الزامات عائد کیے تھے۔
بعد ازاں شمیم مائی کی خودکشی کے بعد اہل خانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے درخواست پر بروقت کارروائی نہیں کی، جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئیں۔ اس معاملے پر آر پی او ملتان عثمان اکرم گوندل کی ہدایت پر مبینہ غفلت اور مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کے الزام میں متعلقہ پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا گیا۔
دوسری جانب، ملزم اشفاق کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ اس کے مطابق، اس کا شمیم مائی سے تقریباً بارہ سال قبل نکاح ہوا تھا، بعد ازاں طلاق ہوگئی اور اس نے دوسری شادی کر لی۔ اشفاق کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایک وائس میسج موجود ہے جس میں شمیم مبینہ طور پر اسے ملنے کے لیے کہتی ہیں اور نہ آنے کی صورت میں خودکشی کی دھمکی دیتی ہیں۔ اشفاق کے مطابق اس نے طلاق کا حوالہ دیتے ہوئے ملنے سے انکار کیا تھا۔
ملزم کا مزید کہنا ہے کہ اس کی دوسری شادی کے بعد اس کی موجودہ اہلیہ اور شمیم کے درمیان بھی اسی معاملے پر تلخ کلامی ہوئی تھی۔ جبکہ بعض اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ شمیم مائی مبینہ طور پر اشفاق سے مسلسل رابطہ یا ملاقات کی خواہش رکھتی تھیں، تاہم یہ دعوے تاحال کسی عدالتی فیصلے یا سرکاری تحقیقات سے ثابت نہیں ہوئے۔
شمیم مائی کی خودکشی، ابتدائی درخواست، پولیس کی مبینہ غفلت اور ملزم کے دفاعی مؤقف سمیت تمام پہلو اس وقت زیرِ تفتیش ہیں۔ حتمی حقائق کا تعین متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور عدالت کی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔












Leave a Reply