ستھرا پنجاب کے ورکرز کئی روز سے سراپا احتجاج، آواز کون سنے گا؟
ملتان: ( کرائم رپورٹرایم علی )ملتان میں “ستھرا پنجاب” منصوبے کے تحت کام کرنے والے متعدد صفائی ورکرز گزشتہ کئی روز سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں، مگر ان کا کہنا ہے کہ تاحال نہ کوئی مؤثر شنوائی ہوئی ہے اور نہ ہی ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات سامنے آئے ہیں۔
احتجاج کرنے والے ورکرز کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے حقوق، تنخواہوں اور دیگر مسائل کے حل کے لیے مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں، لیکن ان کی فریاد متعلقہ حکام تک نہیں پہنچ رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو ان کے معاشی مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے۔
افسوسناک پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ احتجاج کی کوریج بڑے میڈیا پلیٹ فارمز پر بہت کم دیکھنے میں آئی، جس کے باعث ورکرز نے اپنی آواز سوشل میڈیا کے ذریعے بلند کرنے کی کوشش کی۔ مختلف سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے ذاتی حیثیت میں، بغیر کسی مالی مفاد کے، ان کے احتجاج کو عوام تک پہنچانے کی کوشش کی۔
گزشتہ احتجاج کے دوران ایک منظر خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا، جب ایک ورکر نے خالی پلاسٹک کی بوتل کو علامتی “مائیک” بنا کر اپنے ساتھی کا انٹرویو کیا۔ یہ منظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ محنت کش اپنی آواز ہر ممکن طریقے سے حکام تک پہنچانا چاہتے ہیں، چاہے وسائل کتنے ہی محدود کیوں نہ ہوں۔
روزنامہ سکائی پاکستان ہمیشہ عوامی مسائل اور حق کی آواز کو اجاگر کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ اسی جذبے کے تحت اخبار ستھرا پنجاب کے ورکرز کے جائز مطالبات اور ان کی مشکلات کو ذمہ داری کے ساتھ عوام اور متعلقہ حکام تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ان محنت کش ورکرز کو انصاف ملے گا؟ کیا ان کے مطالبات سنے جائیں گے؟ یا پھر یہ احتجاج بھی دیگر کئی احتجاجوں کی طرح صرف وعدوں اور یقین دہانیوں تک محدود رہ جائے گا؟ ان سوالات کے جواب کا انتظار صرف احتجاج کرنے والے ورکرز ہی نہیں بلکہ شہر کے شہری بھی کر رہے ہیں، کیونکہ صفائی کا مؤثر نظام انہی محنت کشوں کی شب و روز کاوشوں سے وابستہ ہے





Leave a Reply