
یہ مضمون پہلی بار 24 جولائی 2019 کو بی بی سی اردو پر شائع ہوا تھا۔ آج، کیپٹن کرنل شیر خان کی 27ویں برسی کے موقع پر اسے نظرِ ثانی کے ساتھ دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔
جنگی تاریخ میں ایسے واقعات بہت کم ملتے ہیں جب ایک فوج اپنے دشمن کے کسی سپاہی کی غیر معمولی بہادری کا کھلے دل سے اعتراف کرے اور اس کے لیے احترام کا اظہار کرے۔ لیکن 1999 کی کارگل جنگ میں ایک ایسا ہی غیرمعمولی واقعہ پیش آیا۔
ٹائیگر ہل کے محاذ پر پاکستانی فوج کے کیپٹن کرنل شیر خان نے بے مثال جرات، عزم اور قیادت کا مظاہرہ کیا۔ ان کی شجاعت اس قدر نمایاں تھی کہ بھارتی فوج کے افسران بھی اس کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے۔
اس محاذ پر بھارتی فوج کی قیادت کرنے والے بریگیڈیئر ایم ایس باجوہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“جنگ ختم ہونے تک میں اس افسر کا معترف ہو چکا تھا۔ میں 1971 کی جنگ بھی لڑ چکا ہوں، مگر میں نے کسی پاکستانی افسر کو اس انداز میں اپنی قیادت کرتے نہیں دیکھا۔ دوسرے فوجی روایتی وردی میں تھے، جبکہ وہ اکیلا ٹریک سوٹ میں ہر محاذ پر اپنے ساتھیوں کی قیادت کر رہا تھا۔”
خودکش حملہ
کارگل جنگ پر لکھی گئی کتاب “Kargil: Untold Stories from the War” کی مصنفہ رچنا بشٹ راوت کے مطابق، پاکستانی افواج نے ٹائیگر ہل پر پانچ مختلف مقامات پر اپنی چوکیاں قائم کر رکھی تھیں۔ ابتدا میں ان چوکیوں پر قبضے کی ذمہ داری بھارتی فوج کی آٹھ سکھ رجمنٹ کو سونپی گئی، تاہم وہ اپنے اس مشن میں کامیاب نہ ہو سکی۔




Leave a Reply