
پاکستان اور بھارت کی ممتاز شخصیات کے درمیان ہونے والی ٹریک ٹو سفارتکاری کی ملاقاتوں اور دونوں وزرائے اعظم کو ارسال کیے گئے مشترکہ خط کے بارے میں پاکستان نے کہا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے امریکی کردار کا خیرمقدم کرے گا۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ان ملاقاتوں کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید، جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے نام لکھے گئے خط پر بھی براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملک خطے میں امن اور سلامتی کے قیام کے لیے پاکستان اور بھارت دونوں سے رابطہ کرنا چاہے تو پاکستان ایسے سفارتی اقدامات میں تعاون پر آمادہ ہے۔
دوسری جانب پاکستان اور بھارت کے سو سے زائد ممتاز شہریوں نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سے مشترکہ اپیل کی ہے کہ وہ باہمی مذاکرات کا دوبارہ آغاز کریں، سفارتی تعلقات کو بحال کریں، تجارت کو فروغ دیں اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
ادھر اس خط پر بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے سینئر ترجمان شہزاد پونہ والا نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں، جب آپریشن سندور جاری ہے، پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل ہے، کچھ حلقے پاکستان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کی وکالت کر رہے ہیں۔





Leave a Reply